ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منی پال کے ایم سی کے ڈاکٹروں نے ہندوستان میں پہلی بار کم یاب ترین بلڈ گروپ کی نشاندہی کرلی !

منی پال کے ایم سی کے ڈاکٹروں نے ہندوستان میں پہلی بار کم یاب ترین بلڈ گروپ کی نشاندہی کرلی !

Fri, 27 Jul 2018 21:04:18    S.O. News Service

اڈپی 27؍جولائی (ایس او نیوز) منی پال کستوربا میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل سے متعلقہ بلڈ بینک کے ڈاکٹروں نے پہلی بار ہندوستان میں کم یاب ترین بلڈ گروپ کی نشاندہی کرلی ہے۔ اس بلڈ گروپ کو ’پی پی‘ یا 145P null146 گروپ کہا جاتا ہے ۔

کسی بلڈ گروپ کو کم یاب rareاس وقت کہا جاتا ہے جس کا پایا جانا ایک ہزار افراد میں سے ایک کے اندر بھی پایا جانا مشکل ہو۔ عام طور پر انسانوں کے جو بلڈ گروپ بنائے گئے ہیں وہ ABOاورRh Dزمروں میں تقسیم کیے گئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ہٹ کر 200چھوٹے چھوٹے گروپس بھی ہوتے ہیں جن میں بہت سارے کم یاب ترین ہیں۔

موصولہ تفصیلات کے مطابق کستوربا ہاسپٹل سے وہاں کے بلڈبینک کو فوری خون فراہم کرنے کی مانگ موصول ہوئی ۔ جب گروپ کے لئے کراس میچنگ کی گئی تو 80قسم کے یونٹس چیک کرنے پر بھی گروپ میچ نہیں ہوا۔ لیباریٹری میں ماہرین نے بے حد مشقت سے چھان بین کرنے کے بعد اس خون کا سیمپل یونائٹیڈ کنگ ڈم کے برسٹل میں موجود انٹر نیشنل بلڈ گروپ ریفرنس لیباریٹری (IBGRL)کو بھیج دیا۔اور اس بین الاقوامی ریفرنس لیباریٹری کے تعاون سے تصدیق ہوگئی کہ یہ خون ’پی پی‘ فینو ٹائپ کا ایک کم یاب ترین گروپ سے تعلق رکھتا ہے۔ فیکلٹی آف ہیلتھ سائنسس کی پرو وائس چانسلرڈاکٹر پورنیما بالیگا نے بتایا کہ اس بلڈ گروپ کی نشاندہی ہندوستان میں پہلی بار ہوئی ہے۔ 

Immunohematologyاور بلڈ ٹرانسفیوژن کی ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر شامی شاستری نے بتایا کہ جس مریض کے آپریشن کے لئے خون کی ضرورت تھی اس کا خون 145P null146 گروپ سے تھااور اس کے اندر anti PP1Pk اینٹی باڈیز موجود تھیں۔جس کی وجہ سے اس کو ذراسا بھی غلط میچ والا خون دیا جاتاتو اس کی خون کی رگوں میں سخت ترین ردعمل ہوسکتاتھا۔ اس قسم کے بلڈ گروپ والی خواتین میں بار بار اسقاط حمل ہوتا رہتا ہے۔اس گروپ کا میچنگ خون حاصل کرنا ناممکنات میں سے ہے۔اس کا بس ایک ہی راستہ ہے کہ کم یاب اور نایاب ترین خون رکھنے والوں کا ایک ایسا رجسٹر تیار کیا جائے جو وقت پڑنے پر اپنا خون عطیہ کرسکیں۔

دراصل اس کیس میں پروفیسر آف آرتھو پیڈکس ڈاکٹر کرن اچاریہ کو اپنے ایک مریض کی ران کی ہڈی کا آپریشن کرنا تھا اور اس کے لئے اسے خون چڑھانے کی ضرورت تھی۔ لیکن میچنگ خون نہ ملنے کی وجہ سے دواؤں کے ذریعے مریض کاہیمو گلوبن بڑھانے کی کوشش کی گئی جس میں کامیابی ملتے ہی ڈاکٹر کرن اچاریہ اور ان کی ٹیم نے بہت ہی جدید ٹیکنک کا استعمال کرتے ہوئے ذرابھی خون بہائے بغیر blood less سرجری کر دی۔کے ایم سی منی پال کے ڈین ڈاکٹر پراگنا راؤ نے ڈاکٹروں کی ٹیم کو ان کی اس کامیابی پرستائش کرتے ہوئے مبارکباد پیش کی۔


Share: